7 نومبر 2017 - 15:02
پاکستانی فوج کے کمانڈر قمر جاوید باجوا کی بریگیڈیر جنرل امیر حاتمی سے ملاقات، سکیورٹی معاملات پر تبادلہ خیال

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر دفاع اور لاجسٹک نے کہا ہے کہ پاکستان کی سلامتی ہماری سلامتی ہے.

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر دفاع اور لاجسٹک نے کہا ہے کہ پاکستان کی سلامتی ہماری سلامتی ہے.

ان خيالات كا اظہار بريگيڈير جنرل 'امير حاتمي' نے منگل كے روز ايراني دارالحكومت تہران كے دورے پر آئے ہوئے پاكستاني فوج كے سپہ سالار جنرل ‘قمر جاويد باجوا’ كے ساتھ ايك ملاقات كے دوران گفتگو كرتے ہوئے كيا.

جنرل امير حاتمي نے دونوں ممالك كے درميان باہمي دفاعي تعلقات كے فروغ دينے كي اہميت پر زور ديتے ہو‏ئے كہا كہ اسلامي جمہوريہ ايران كي خارجہ پاليسي كے اہم اصولوں ميں سے ايك علاقائي ممالك كي سالميت اور قومي اتحاد كا احترام كرنا ہے اسي ليے ہم پاكستان كي سيكورٹي كو ہماري سيكورٹي جانتے ہيں.

انہوں نے علاقائي اور عالمي سطح پر رونما ہونے والي تبديليوں كا ذكر كرتے ہوئے كہا كہ اسي صورتحال ميں پاكستاني آرمي چيف كے دورہ تہران استحكام، سيكورٹي اور دو طرفہ تعلقات كو مضبوط بن سكتا ہے.

ايراني وزير نے ہماري پاليسي ہمسايہ ممالك كے ساتھ دوطرفہ تعلقات بڑھانے كو ايران كي اہم پاليسي قرار ديتے ہوئے كہا كہ دونوں ممالك كے درميان ديرينہ تعلقات اور ثقافتي، مذہبي، تاريخي مشتركات كي وجہ سے ايران كي خارجہ پاليسي ميں پاكستان كو ايك خاص مقام اور اہميت حاصل ہے.

ايراني جنرل نے كہا كہ ہم نے علاقائي امن اور استحكام كے تناظر ميں پاكستان كي دفاعي اور فوجي طاقت كي كاميابيوں كي بھرپور حمايت كر رہے ہيں.

انہوں نے مزيد بتايا كہ ہميں اميد ہے كہ افغان حكومت كو ايران اور پاكستان كي باہمي مدد كے ساتھ اس ملك كے ہونے والے 38 سالہ بحران ختم اور خطے ميں امن اور سلامتي قائم ہوجائے گا.

جنرل حاتمي نے علاقائي امن كے عدم استحكام كے ليے عالمي سامراج كي سازشوں كا حوالہ ديتے ہوئے كہا كہ بدقسمتي سے بعض ممالك امريكہ اور ناجائز صہيوني رياست كے جال ميں پھنس گئے ہيں اور افغانستان، عراق پر حملہ كرنا اور داعش كي تخليق كے بعد خطي ممالك كو تقسيم كرنا چاہتے ہيں جو يہ خطے اور اسلام كي شايان شان نہيں ہے.

انہوں نے امريكہ اور جابر صہيوني كو دہشتگردي كے سب سے بڑے اور خطرناك حامي قرار ديتے ہوئے كہا كہ انتہا پسندي امريكي سياستدانوں اور وائٹ ہاوس كے حكام كي تخليق ہے اور وہ دہشتگردي سے نمٹنے كے بہانے سے اسلامي ممالك پر قبضہ كرنا چاہتے ہيں.

انہوں نے امريكہ اور صہيوني رياست كے ظالمانہ عزائم كے خلاف ايران كي مزاحمت كو ايران كے خلاف عائد پابنديوں كي اصلي وجہ قرار ديتے ہوئے كہا كہ اسلامي جمہوريہ ايران علاقائي ممالك كي سالميت اور امن كے تحفظ كے ليے اپني تمام تر صلاحيتوں كو بروئے كار لائے گا.

اس موقع ميں جنرل باجوا نے دونوں ممالك كے مابين گہرے تعلقات اور مشتركات كا حوالہ ديتے ہوئے كہا كہ جيسا كہ ميں نے اس سے پہلے كہا دونوں ممالك كو مشتركہ دشمنوں سے مقابلہ كرنے كے ليے باہمي تعاون كو مزيد مضبوط بنانا چاہيے.

انہوں نے كہا كہ ايران پاكستان كے ليے بہت اہميت كے حامل ہے اور پاكستاني قوم ايراني عوام كا بہت احترام كرتا ہے.

انہوں نے دونوں ممالك كي مشتركہ سرحدوں كي سلامتي كي فراہمي كو پاكستاني پاليسي كي اہم ترجيح قرار ديتے ہوئے اس اميد كا اظہار كيا كہ مشتركہ سرحدوں ميں امن اور استحكام كے قيام سے دونوں ممالك كے درميان باہمي اقتصادي تعلقات كے فروغ دينے كے ليے مواقع ميسر ہوگا.

پاكستاني جنرل نے امت مسلمہ كے درميان مسائل كے حل كے ليے باہمي اتحاد اور يكجھتي كي ضرورت پر زور ديتے ہوئے كہا كہ خطے كي ايسي حساس صورتحال ميں اسلامي ممالك كو سلامتي اور استحكام كے ليے اپنے اتحاد كو تحفظ كرنا چاہيے.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲